Select Language :

وضو میں بات چیت اورکسی شخص کی بات کاجواب دینا کیساہے :

سوال:    حضرت مدظلہ ،السلام علیکم ورحمۃ اللہ ،از طالب الخیر والدعا ء گذارش ہے کہ میں وضو کررہاتھا اورادعیہ ماثورہ بھی پڑھا تھا کہ ایک شخص نے مجھے مخاطب کرکے مجھ سے کچھ کہنا چاہا میں نے اس خیال سے کہ وضو میں بات چیت کرنا خلاف سنت ہے ،ان کی طرف کچھ توجہ نہ کی ،وہ بول کر بھی شرمندہ ہوئے اورپھر کہنے لگے کہ تم سے اخلاقی جرم کا ارتکاب ہواہے ،وضو میں ازخود کسی سے فضول بات کی ابتدا کرنا مکروہ ہے ،اور اگرکوئی دوسرابات کرے توقبل اس کے کہ اس بات کی اچھائی برائی کے متعلق کوئی رائے قائم ہواس کی بات پرکان  نہ دھرنا اورمتکلم کوجواب نہ دے کر شرمندہ کرنا اوروہ بھی صرف ترک مندوب کی وجہ سے یقینا غلو فی الدین ہے ،حضورسے پوچھتا ہوں کہ یہ ان کی تعریض کس حدتک صحیح ہے کیادعا کوچھوڑکر جواب میں مشغول ہوجاتا تواچھا تھایاکیا؟

الجواب

بے شک وضومیں بالکل نہ بولنا اوردوسراشخص بات کرے تواس کو بالکل جواب نہ دینا بوجہ کسرقلب مسلم کے مذموم ہے ،ادعیہ ٔماثورہ کی رعایت اتنی ضروری نہیں جتنی قلب مسلم کی رعایت ضروری ہے اس حالت میں وضو کرنے والا کم از کم اتنا ہی جواب دیدے کہ میں وضو سے فارغ ہوکر آپ کی بات سنوں گا ،تواس سے ادعیۂ ماثورہ میں خلل بھی نہ ہو، اور نہ ایسی بات وضومیں مکروہ ہے ،او راس صورت میں جب کہ دوسرا شخص آکر بات کرے ا سکی تطییب قلب کی رعایت سے مختصر ا ًجواب دینا بلا ضرورت نہیں بلکہ ایک حدتک ضروری ہے ۔

قال فی نورالایضاح والمراقی: ویکرہ التکلم بکلام الناس لأنہ یشغلہ عن الأدعیۃ آھ قال الطحطاویؒ: مالم یکن لحاجۃ تفوتہ بترکہ قالہ ابن أمیر الحاج آھ وقولہ: لأنہ یشغلہ عن الأدعیۃ ولأجل تخلیص الوضو ء من شوائب الدنیا آھ (ص۴۸)

قلت: والکلام فی جواب سائل ھو لحاجۃ تفوتہ بترکہ وھو تطییب قلب المؤمن وھوعبادۃ فقدروی أبوھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ مرفوعاً ’’والکلمۃ الطیبۃ صدقۃ‘‘ متفق علیہ، وعن أبی ذرؓ مرفوعاً ’’تبسمک فی وجہ أخیک لک صدقۃ‘‘ رواہ الترمذیؒ وحسنہ وصححہ ابن حبانؒ کذافی الترغیب ۔(ص ۴۶۸ و۴۶۹)

۱۳؍ ربیع الاول ۴۵ھ؁۔(امدادالاحکام جلد اول ص ۳۴۶و۳۴۷ (

کتب ورسائل

قرآن
حدیث
اسلامیات
سیرت رسولؐ
عقیدہ
فقہ
تصوف
تقریر

سوال/جواب

تمباکو کھانے کے بعد وضو:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
تمباکونوشی اورنسوارکشی سے وضوٹوٹتاہے یانہیں:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
وضوء کے فرائض وسنن
وضو میں واجبات
چہرہ کی حد کہاں سے کہاں تک ہے اور داڑھی کے غسل کاحکم
گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم
پیشانی کے اوپرکے حصہ میں بال نہ ہوں تووضومیں چہرہ کہاں تک دھوناچاہیے
عورت کے ناک،کان میں سوراخ ہوتووضومیں پانی پہنچاناضروری ہے یانہیں

         آگے پڑھئے