Select Language :

وضومیں انگلیوں کاخلال سنت مؤکدہ ہے:

سوال:    وضومیں انگلیوں کاخلال کرناسنت مؤکدہ ہے یانہیں؟اورسنت مؤکدہ کاترک گناہ صغیرہ ہے یاکبیرہ ؟وضومیں خلال کاترک کرنامکروہ تحریمی ہے یاتنزیہی؟بینواتوجروا۔

الجواب باسم ملھم الصواب

سنت مؤکدہ ہےاوربلاعذرمع الاصرارترک کرنامکروہ تحریمی ہونے کی وجہ سے گناہ کبیرہ ہے۔

’’قال فی شرح التنویر:وتخلیل( الأصابع)الیدین بالتشبیک والرجلین بخنصریدہ الیسریٰ بادیاًبخنصررجلہ الیمنیٰ وھذابعددخول الماء خلالھا،فلومنضمۃً۔قال فی الشامیۃ:(وقولہ تخلیل الأصابع)ھوسنۃ مؤکدۃاتفاقاً،سراج،(ردالمحتار:۱؍۱۰۹)وفی موضع اٰخرمنہ :فی الحدیث: من ترک سنتی لم ینل شفاعتی،فترک السنۃالمؤکدۃقریب من الحرام ،قال ابن عابدینؒ تحت(قولہ وفی الزیلعی):ومقتضاہ أن ترک السنۃ المؤکدۃ مکروہ تحریم لجعلہ قریباًمن الحرام والمراد بھاسنن الھدی کالجماعۃ والأذان والإقامۃ فان تارکھامضل ملوم والمرادالترک علی وجہ الإصراربلاعذر(ردالمحتار:۵؍۲۳۷)وفی واجبات الصلوٰۃ:ولھاواجبات لاتفسدبترکھاوتعاد وجوباًفی العمدوالسھووإن لم یعدھایکون فاسقاًاٰثماً،قال الشامی:(قولہ یکون فاسقاً)أقول: صرح العلامۃابن نجیمؒ فی رسالتہ المؤلفۃفی بیان المعاصی: بأن کل مکروہ تحریماًمن الصغائروصرح أیضاًبأنہم شرطوالإسقاط العدالۃبصغیرۃالإدمان علیھا۔(ردالمحتار:۱؍۴۲۵،مطلب المکروہ تحریماًمن الصغائر)فقط واللہ تعالیٰ اعلم

۵؍جمادی الآخرۃ ۸۷ھ؁(احسن الفتاویٰ:۲؍۱۳)

کتب ورسائل

قرآن
حدیث
اسلامیات
سیرت رسولؐ
عقیدہ
فقہ
تصوف
تقریر

سوال/جواب

تمباکو کھانے کے بعد وضو:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
تمباکونوشی اورنسوارکشی سے وضوٹوٹتاہے یانہیں:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
وضوء کے فرائض وسنن
وضو میں واجبات
چہرہ کی حد کہاں سے کہاں تک ہے اور داڑھی کے غسل کاحکم
گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم
پیشانی کے اوپرکے حصہ میں بال نہ ہوں تووضومیں چہرہ کہاں تک دھوناچاہیے
عورت کے ناک،کان میں سوراخ ہوتووضومیں پانی پہنچاناضروری ہے یانہیں

         آگے پڑھئے