Select Language :

مسنون وضوکی ترکیب اوردعائیں:

سوال:    کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ اعضاء وضومثلاًکلی کرنے،کان میں پانی ڈالنے،چہرہ دھونے ،ہاتھ دھونے ،مسح کرنے کے وقت دعائیں پڑھی جاتی ہیں وہ ہمیں یادنہیں ہم سیکھنا چاہتے ہیں تواس کی کیاصورت ہے؟اگرآپ تکلیف اٹھاکرلکھ سکتے ہوں توبڑی عنایت ہوگی،ہم آپ کے لیے دعاکریں گے۔

الجواب

کتب احادیث وکتب فقہ (شامی:۱؍۱۸۸،فتاویٰ عالمگیری:۱؍۶)میں وضوکی دعائیں موجودہیں، احادیث اورفقہ کی عبارتیں پیش کرنے کے بجائے آپ کی سہولت کے لیے اردوکی معتبرکتاب ’’ضمیمہ جدیدہ حصہ دوم عملیات مجربہ خاندان عزیزیہ‘‘سے نقل کیاجاتاہے،کسی کودعائیں یادکرنے میں دشواری ہوتویادہونے تک صرف درودشریف ہی پڑھ لیناکافی ہے،ان شاء اللہ۔فتاویٰ عا لمگیری میں ہے:

’’ویصلی علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعدغسل کل عضو‘‘۔(فتاویٰ عالمگیری:ص۶؍جلد۱)

اب ضمیمۂ جدیدہ کی عبارت ملاحظہ کریں:

’’ترکیب وضومسنونہ‘‘

عامل(نمازی)کوچاہیے کہ جب وضوکرے کامل کرے۔

یعنی جب استنجا وغیرہ سے فارغ ہوتوقبلہ روبلندجگہ پر بیٹھے،اول مسواک کرے،پھریہ دعاپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ تَسْوِیْکِیْ ھٰذاَ تَمْحِیْصاً لِذُنُوْبِیْ وَمَرْضَاۃً لَّکَ یَارَبِّ بَیِّضْ بِہٖ وَجْہِیْ کَمَا تُبَیِّضُ بِہٖ اَسْنَانِیْ‘‘۔

فضائل مسواک میں ہے:

مسواک کی دعابنایہؔ میں درایہؔ سے نقل کرتے ہوئے لکھاہے کہ مسواک کرتے وقت یہ دعاپڑھنی چاہیے:

’’اَللّٰھُمَّ طَھِّرْفَمِیْ وَنَوِّرْقَلْبِیْ وَطَھِّرْبَدَنِیْ وَحَرِّمْ جَسَدِیْ عَلَی النّارِ‘‘۔

اسی طرح علامہ نووی ؒنے شرحؔ مہذب میں ایک دوسری دعانقل کی ہے اورکہاہے کہ یہ دعااگرچہ بے اصل ہے لیکن اچھی دعاہے اس لیے اس کوپڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے وہ دعایہ ہے:

’’اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ أَسْنَانِیْ وَشَدَّ بِہٖ لِسَانِیْ وَثَبِّتْ بِہٖ لَھَاتِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْہِ یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ‘‘۔(فضائل مسواک :۲۷،۷۳ازمولانااطہرحسین صاحب(

پھرنیت وضوکرکے یہ دعاپڑھے:

’’بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیَاطِیْنِ وَأَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ‘‘۔

پھردونوں ہاتھ کلائی تک تین مرتبہ دھوئے اور انگلیوں میں خلال کرے اورپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْئَلُکَ الْیُمْنَ وَالْبَرَکَۃَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشُّؤْمِ وَالْھَلَکَۃِ ‘‘۔

پھر تین مرتبہ کلی کرے اوراس دعاکوپڑھے :

’’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَتِلاَوَۃِ کِتَابِکَ‘‘۔

پھرتین بارناک میں پانی ڈالے اوربائیںہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ناک کے اندرکی آلائش کھجلاکرصاف کرے اوریہ دعاپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ أَرِحْنِیْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَأَنْتَ رَاضٍ عَنِّیْ‘‘۔

پھرتین مرتبہ دونوں ہاتھوں سے منہ،بالوں کے اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اورکنپٹیوں تک دھوئے اوریہ دعاپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ وَجْھِیْ بِنُوْرِوَجْھِکَ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہُ أَوْلِیَائِ کَ،اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ وَجْھِیْ بِنُوْرِوَجْھِکَ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوْہٌ‘‘۔

اگرداڑھی گنجان ہوتوانگلی سے خلال کرے انگلیوں کوٹھوڑی کے نیچے داڑھی میںڈال کراوپررخساروں کی طرف لے جائیں پھرداہناہاتھ کہنی سمیت تین مرتبہ دھوئے اوریہ دعا پڑھے :

’’اَللّٰھُمَّ أَعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِیَمِیْنِیْ وَحَاسِبْنِیْ حِسَاباً یَسِیْراً‘‘۔

پھربایاں ہاتھ تین باردھوئے اوریہ دعا پڑھے :

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ أَنْ تُعْطِیَنِیْ کِتَابِیْ بِشِمَالِیْ أَوْمِن وَّرَائِ ظَھْرِیْ‘‘۔

 اگرانگشتری(انگوٹھی)ہاتھ میں ہوتواس کوہلاکرپانی پہونچائے پھردونوں ہاتھوں کوترکرکے تین تین انگلیاں دونوں ہاتھ کی خنصراوربنصرووسطیٰ یعنی چھنگلیاں اوراس کے پاس کی انگلی اوربیچ کی انگلی ملاکراوردونوں انگوٹھے اور انگوٹھوں کے پاس کی انگلیاں الگ الگ کرکے پیشانی پررکھ کردماغ کے اوپرسے گدی تک لے جائے،پھرگدی سے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں کانوں کے اوپرتک جوسرباقی رہے ملتاہواماتھے تک لے جائے،اس ترکیب سے سارے سرکامسح کرے،پھریہ دعاپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ أَغِثْنِیْ بِرَحْمَتِکَ وَأَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَاتِکَ وَأَظِلَّنِیْ تَحْتَ عَرْشِکَ یَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّظِلُّکَ‘‘۔

پھردونوں کانوں میں انگوٹھوں کے پاس کی انگلیاں اند ر کی جانب سے کانوں کی کھائیوںمیں سب طرف خوب پھیرے کہ کھائیاں کونوں کی ترہوجائیں اورکانوں کی پشت پرانگوٹھوں کے شکم کاپانی ملے اس طرح کانوںکامسح کرے پھریہ دعاپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ أَحْسَنَہٗ‘‘۔

پھردونوں ہاتھوں کی پشت گردن پرملے پھریہ دعا پڑھے :

 ’’اَللّٰھُمَّ فَکِّ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِوَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ السَّلاَسِلِ وَالْاَغْلاَلِ‘‘۔

پھرداہناپاؤں ٹخنوںسمیت تین دفعہ دھوئے بائیں ہاتھ کی چھنگلیاں سے خلال دونوںپیروں کی انگلیوں میں کرے مگرداہنے پیرکی چھنگلیوں سے شروع کرے اوربائیں پاؤں کی چھنگلیوں پرختم کرے جب داہناپاؤں دھوئے تویہ دعا پڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قَدَمِیْ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ الْأَقْدَامُ فِی النَّارِ‘‘۔

اورجب بایاں پاؤں دھوچکے تویہ دعاپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ أَنْ تَزِلَّ قَدَمِیْ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْم تَزِلُّ أَقْدَامُ الْمُنَافِقِیْنَ ‘‘۔(شامی: ۱؍ ۱۲۷، مطلب فی مباحث الاستعانۃ فی الوضوء بالغیر،عالمگیری:۱؍۹ا،الفصل الثانی فی المستحبات، طحطاوی علی مراقی الفلاح:۴۲، فصل من آداب الوضوء أربعۃ عشرشیئاً۔میں دعاکے کلمات کچھ مختلف ہیں جویادہوپڑھ سکتاہے۔(

اورجب وضو سے فراغت پائے توکلمۂ شہادت پڑھے :

’’أَشْھَدُأَنْ لاَّإِلٰہَ إِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُأَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘۔

حدیث شریف میں آیاہے کہ جوکوئی بعدوضوکے کلمۂ شہادت پڑھے گا اس کے واسطے بہشت کے آٹھوں دروازے کھولے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے بہشت میں داخل ہوکلمۂ شہادت کے بعدیہ دعاپڑھے:

’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ الَّذِیْنَ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ ‘‘.

نسائی شریف میں حدیث بیان کی ہے کہ جوشخص وضوکے بعدیہ دعاپڑھے گا حبط نہ ہوں گے پھرسورۂ قدر یعنی ’’إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ ‘‘پڑھے ،پھردورکعت نفل تحیۃ الوضوپڑھے۔(ضمیمۂ جدیدہ حصہ دوم عملیات مجربہ خاندان عزیزیہ :۴۔۶)فقط واللہ اعلم بالصواب(فتاویٰ رحیمیہ جلد:۷؍۱۳۷۔۱۳۹ 

کتب ورسائل

قرآن
حدیث
اسلامیات
سیرت رسولؐ
عقیدہ
فقہ
تصوف
تقریر

سوال/جواب

تمباکو کھانے کے بعد وضو:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
تمباکونوشی اورنسوارکشی سے وضوٹوٹتاہے یانہیں:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
وضوء کے فرائض وسنن
وضو میں واجبات
چہرہ کی حد کہاں سے کہاں تک ہے اور داڑھی کے غسل کاحکم
گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم
پیشانی کے اوپرکے حصہ میں بال نہ ہوں تووضومیں چہرہ کہاں تک دھوناچاہیے
عورت کے ناک،کان میں سوراخ ہوتووضومیں پانی پہنچاناضروری ہے یانہیں

         آگے پڑھئے