Select Language :

پیر دھونے کامسئلہ:

سوال:نماز پڑھنے کے لئے وضوکرنافرض ہے اوروضو میں چار فرض ہے:منہ دھونا، کہنیوں تک ہاتھ دھونا،سر کامسح کرنااور ٹخنوں تک پیر دھونا،لیکن ہم لوگ وضو کرتے وقت سرکامسح کرتے ہیں۔مگرپیر کوبھی ٹخنوں تک دھوتے ہیں جبکہ چھٹے پارے سورہ مائدہ کے پہلے رکوع میںخدا نے وضو کے طریقہ لکھے ہیں جس میں لکھاہوا ہے کہ نماز کے لئے جاؤتومنہ اورہاتھ کوکہنیوں تک دھولو، سر اورپیر ٹخنوں تک مل لو۔توبتلائیے کہ دھونے اورملنے میں کیاکوئی فرق نہیں ہے؟اگرفرق نہیں ہے توسر کوبھی کیوں نہیں دھویاجاتا ہے کیاہماراوضو صحیح ہوتاہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

’’وأرجلکم ‘‘کاعطف’’رؤسکم‘‘پرنہیں ہے۔بلکہ ’’أیدیکم‘‘پر ہے،لہذا جس طرح چہرہ اورہاتھ دھویاجاتاہے اسی طرح پیربھی دھویاجائے گا بخلاف سر کے کہ اس کاحکم صرف مسح ہے،اس آیت کی تشریح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے اورہماراوضو درست ہے،جس میں تین اعضا دھوئے جاتے ہیں اورسر کامسح کیاجاتا ہے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم

حررہ العبد حبیب اللہ القاسمی۔(حبیب الفتاویٰ جلد سو م صفحہ ۴۹و۵۰)

کتب ورسائل

قرآن
حدیث
اسلامیات
سیرت رسولؐ
عقیدہ
فقہ
تصوف
تقریر

سوال/جواب

تمباکو کھانے کے بعد وضو:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
تمباکونوشی اورنسوارکشی سے وضوٹوٹتاہے یانہیں:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
وضوء کے فرائض وسنن
وضو میں واجبات
چہرہ کی حد کہاں سے کہاں تک ہے اور داڑھی کے غسل کاحکم
گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم
پیشانی کے اوپرکے حصہ میں بال نہ ہوں تووضومیں چہرہ کہاں تک دھوناچاہیے
عورت کے ناک،کان میں سوراخ ہوتووضومیں پانی پہنچاناضروری ہے یانہیں

         آگے پڑھئے