Select Language :

وضواورغسل میں ناخن پالش کاحکم

سوال:    علماء کرام ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیںکہ اس دورمیں عورتیں جوناخن پالش لگاتی ہیں جب ان سے کہاجائے کہ ناخن پالش لگاناناجائزہے اس کے ہوتے ہوئے وضونہیں ہوتاجوکہ نمازکے لیے شرط ہے اورنمازارکان اسلام میںسے ہے جب وضوہی نہیں ہواتونمازجواس پرمرتب ہوتی ہے کیسے صحیح ہوگی تویہ جواباًکہتی ہیں کہ یہ تزئین کے لیے لگائی جاتی ہے جوکہ عورت کے لیے ضروری ہے فقہائے کرام بھی فرماتے ہیں کہ عورت کوخاوندکے لیے ہروقت تیارومزین رہناچاہیے پھرکیوںکرنہ لگائی جائے کیااس کالگاناجائزہے یاناجائز؟بینواتوجروا۔

الجواب باسم ملھم الصواب

ایسی تزئین حرام ہے جوشرعی فرائض کی صحت سے مانع ہو،جوچیزبدن تک پانی پہنچنے سے مانع ہواس کی موجودگی میںوضواورغسل صحیح نہیں ہوتااگربال برابربھی جگہ خشک رہ گئی تووضواورغسل نہ ہوگا،حضرات فقہا رحمہم اللہ تعالی نے گُندھے ہوئے خشک آٹے کوصحت وضوسے مانع قراردیاہے حالانکہ وہ ناخن پالش جتناسخت نہیں ہوتااوراس کی ضرورت بھی ہے توناخن پالش کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے،جتنی بھی نمازیں ناخن پالش لگاکرپڑھی ہیں وہ واجب الاعادہ ہیں اورساتھ ساتھ توبہ واستغفاربھی کرے۔

’’قال فی الشامیۃ (قولہ بخلاف نحوعجین)أی کعلک وشمع وقشرسمک وخبز ممضوغ متلبد،جوھرۃ،لکن فی النھر:ولوفی أظفارہ طین أوعجین فالفتویٰ علی أنہ مغتفر قرویاًکان أومدنیاًآھ،نعم ذکرالخلاف فی شرح المنیۃ:فی العجین واستظھرالمنع لأن فیہ لزوجۃً وصلابۃً تمنع نفوذالماء‘‘۔(ردالمحتار:۱؍۱۴۳)فقط واللہ تعالیٰ اعلم

۱۴؍جمادیٰ الاولیٰ۹۸ھ(احسن الفتاویٰ:۲؍۲۶و۲۷)
کتب ورسائل

قرآن
حدیث
اسلامیات
سیرت رسولؐ
عقیدہ
فقہ
تصوف
تقریر

سوال/جواب

تمباکو کھانے کے بعد وضو:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
تمباکونوشی اورنسوارکشی سے وضوٹوٹتاہے یانہیں:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
وضوء کے فرائض وسنن
وضو میں واجبات
چہرہ کی حد کہاں سے کہاں تک ہے اور داڑھی کے غسل کاحکم
گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم
پیشانی کے اوپرکے حصہ میں بال نہ ہوں تووضومیں چہرہ کہاں تک دھوناچاہیے
عورت کے ناک،کان میں سوراخ ہوتووضومیں پانی پہنچاناضروری ہے یانہیں

         آگے پڑھئے