Select Language :

گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم

سوال:    جناب مفتی صاحب!فقہ کی بعض کتابوں میں چہرے کی حد سرکے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک مذکور ہے،اب اگرکسی شخص کے سرکے نصف سے بال شروع ہوئے ہوں تواس بارے میں اس کوکیاکرناچاہئے؟

الجواب

فقہاء کرام کی عبارات میں جویہ مذکورہے کہ چہرے کی حد سرکے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک ہے تواس سے مراد یہ ہے کہ عام طورپر جہاں سے سرکے بال اگنے شروع ہوتے ہیں یعنی عرف میں بال اگنے کی جوحد ہواس کااعتبار ہے،اس لئے جوآدمی بالکل گنجاہویااس کے بال سرکے نصف سے شروع ہوتے ہوں تواسے عرف کے مطابق عمل کرناچاہئے۔

قال العلامۃحسن بن عمارالشرنبلالیؒ:’’(وحدہ) أی جملۃ الوجہ (طولاً من مبدأ سطح الجبھۃ)سواء کان بہ شعرأم لا‘‘قال السید أحمد الطحطاویؒ:’’(قولہ سواء کان بہ شعرأم لا) أشار بہ إلیٰ أن الأغم والأصلع والأقرع والأنزع فرض غسل الوجہ منھم ماذکر‘‘۔(طحطاوی ومراقی الفلاح،أحکام الوضوء:ص۴۵)(فتاویٰ حقانیہ جلد دوم صفحہ۶۰۴و۶۰۵)
کتب ورسائل

قرآن
حدیث
اسلامیات
سیرت رسولؐ
عقیدہ
فقہ
تصوف
تقریر

سوال/جواب

تمباکو کھانے کے بعد وضو:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
تمباکونوشی اورنسوارکشی سے وضوٹوٹتاہے یانہیں:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
وضوء کے فرائض وسنن
وضو میں واجبات
چہرہ کی حد کہاں سے کہاں تک ہے اور داڑھی کے غسل کاحکم
گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم
پیشانی کے اوپرکے حصہ میں بال نہ ہوں تووضومیں چہرہ کہاں تک دھوناچاہیے
عورت کے ناک،کان میں سوراخ ہوتووضومیں پانی پہنچاناضروری ہے یانہیں

         آگے پڑھئے