Select Language :
اغراض ومقاصد

ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے اغراض ومقاصدمندرجہ ذیل ہیں!

علماء ومشائخ وصوفیاء کرام کے فتاویٰ:
ہندوستان کے علمائ،مشائخ اورصوفیاء کرام کے فتاویٰ کی خدمات کی تاریخ روشن ہے،یہاں کے مفتیان کرام کے فتاویٰ کی تاریخ ایک ہزارسال سے زیادہ عرصہ پرمحیط ہے،اس سلسلہ کی جوتاریخ ہمیں ملتی ہے وہ عدالت وقضا کے موضوع پرشیخ علی بن احمدبن محمدبن محمددبیلی کی آداب قضاء کی ہے،یہ دسویں صدی عیسوی کے فقیہ ہیں،اس کے بعدہندوستان کے مختلف حصوںمیں اورہرصوبہ میں کسی نہ کسی اہم کتاب کی تصنیف کی تاریخ ملتی ہے،ادھردوسوسال میں جن علماء،مشائخ اورصوفیاء کرام کا زندگی کے مختلف اورہرطرح کے پروبلمز سے متعلق فتاویٰ ہیں،وہ بہت ہی اہم ہیں،ان کوہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں کافی اہمیت دی جاتی ہیں۔

اس سنٹرکے ذریعہ گذشتہ دوسال سے ان فتاویٰ پرنوٹ لکھنے،ان کوترتیب دینے کاکام مولاناانیس الرحمن قاسمی صاحب کی نگرانی میں کیاجارہاہے،دوسوسال کے فتاویٰ ساٹھ جلدوںمیں شائع ہوں گے، ان کی تین جلدیں تیارہوکر پریس میں طباعت کے لیے دے دی گئی ہے،جس کی پہلی جلد’’فتاویٰ علماء ہند‘‘کے نام سے منظمۃالسلام العالمیۃمومبائی انڈیاکی جانب سے شائع ہوچکی ہے،آئندہ کام جاری ہے،اردوکے ساتھ ان کوہندی اورانگریزی میں ترجمہ کرنے اورویب سائٹ پران کاخلاصہ ڈالنے کاکام بھی جاری ہے۔

کام کی نوعیت:
(الف) ہندوستانی علماء،مشائخ اورصوفیاء کرام کے فتاویٰ کی کتابوںکاحصول اوران کاجائزہ۔
(ب) مسائل کاانتخاب اوران کی نئی ترتیب وتحشیہ۔
(ج) موجودہ دورکے حساب سے نئے مسائل پرغوروفکر۔

علماء اورصوفیاء کرام:
ہندوستان صوفیاء اورعلماء ومشائخ کامرکزتقریباًایک ہزارسال سے رہاہے۔ان علماء ومشائخ اورصوفیاء کے ذریعہ تعلیمی ادارے بھی قائم ہوئے ،خانقاہیں وجودمیں آئیں،لنگرکھولے گئے اوریہ ہندوستان کے اتری،پچھمی،دکھنی اورپوربی حصے میں پائے جاتے ہیں جب کہ وسط ہندوستان میں ان کی تعدادزیادہ رہی ہے۔

کام کی نوعیت:
(۱) علماء اورصوفیاء کرام کے حالات:
(الف) علماء اورصوفیاء کرام کے حالات کی تحقیق اورکتابوںکی تحریر۔
(ب) حیات وخدمات پران کی قدیم وجدیدمخطوطات کی ایڈٹ واشاعت۔
(ج) علماء وصوفیاء کرام کے حالات پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

(۲)علماء وصوفیاء کرام کے مراکز:
(الف) مدارس اورخانقاہوں کی تاریخی حیثیت۔
(ب) مدارس اورخانقاہوں کانظام تربیت۔
(ج) مدارس اورخانقاہوں سے معتقدین اورمریدین کاتعلق۔
(د) بیعت وارشادکی اہمیت وضرورت پرکتابوں کی ترتیب۔
(ہ) درج بالا امورپرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

(۳)عالماء وصوفیاء کرام کے مزارات:
(الف) علماء وصوفیاء کرام کے مزارات کااشاریہ۔
(ب) علماء وصوفیاء کرام کے مزارات پرشائع کتابوںکی تحقیق وترتیب۔
(ج) مزارات کے طرز تعمیروتزئین کی ضرورت واہمیت پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس اوران کی تاریخی حیثیت۔

تصوف کے روحانی سلسلے:
شریعت کی اتباع خداتک پہنچنے کاذریعہ ہیں اس کے ساتھ ہی ہردورمیں کچھ کچھ چیزیں خصوصی اہمیت اختیارکرتی رہی ہیں جس کی وجہ سے ان مشائخ وصوفیاء کرام کے روحانی وباطنی طریقہ کچھ الگ الگ بھی ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے کئی خانوادے تاریخی اعتبارسے وجودمیں آئے۔جنہیں طریقہ قادریہ،نقشبندیہ،چشتیہ،سہروردیہ، مجددیہ وغیرہ کہتے ہیں اوریہ سلسلیں ہندوستان میں مختلف خانقاہوں کی شکل میں نظرآتے ہیں۔

کام کی نوعیت:
(الف) روحانی سلسلے۔
(ب) صوفیوں کے یہاں روحانیت کاتصور۔
(ج) صوفیوں کے اہم روحانی سلسلے جیسے نقشبندیہ،چشتیہ،قادریہ،سہروردیہ،مجددیہ وغیرہ کی تحقیق۔
(د) صوفیانہ اذکار،اوراد،رسوم،طریقے،عرس وزیارت کے آداب پرکتابوں کی تحقیق۔
(ہ) چاروںسلسلوں کی خانقاہیں اوران کی تاریخی ومذہبی حیثیت۔
(و) روحانی سلسلوں وطریقوں پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

علماء وصوفیاء کے یہاں علم :
علماء وصوفیاء کرام کے یہاں عبادت وریاضت کے ساتھ پہلے علم پرتوجہ ہوتی ہے،اوروہ علم ظاہری وباطنی دونوں کوحاصل کرتے ہیں،اس لیے ان کے یہاں ہرعلم وفن کی چیزیں نظرآتی ہیں،وہ ظاہری ادب کے ساتھ عقل کوبھی استعمال کرنے پربھی زوردیتے ہیں۔

کام کی نوعیت:
(۱)علمی تحریر:
(الف) علماء وصوفیاء کرام کی علم شریعت پرلکھی گئی کتابوں کی تحقیق،ایڈٹ،اوراس پرسیمینار، ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(ب) علماء ہندکی فقہی کتابوں کی تحقیق،ایڈٹ،اوراس پرسیمینار، ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(ج) علماء ہند کی تفسیرقرآن پرلکھی گئی کتابوں کی تحقیق،ایڈٹ،اوراس پرسیمینار، ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(د) علم حدیث پرلکھی گئی کتابوں کی تحقیق،ایڈٹ،اوراس پرسیمینار، ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(ہ) عصری علوم پرلکھی گئی کتابوں کی تحقیق،ایڈٹ،اوراس پرسیمینار، ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(و) تعلیم کے عالمی رجحانات کے جائزہ اورامکانات پرلٹریچرتیارکرانااوراسے شائع کرنا۔
(ذ) طلبہ ،علماء،محققین کومختلف اسکالرشپ اورایوارڈدینا۔
(ح) علماء اورجدیدتعلیم یافتہ طبقے کے درمیان آراء وافکارکے تبادل کے لیے سیمناراورکانفرنسوں کاانعقاد۔
(ت) نئے دورکے سائنسی تجربات اورعلمی دلائل کی روشنی میں اسلام اوراسلامی اقدارکی حقانیت کواجاگرکرنا۔
(ی) علمی سطح پراسلام مخالف چیلنجوں کامقابلہ کرنا۔
(ک) ہندوستان کی علاقائی زبانوںمیں عصری اسلوب میں اسلام سے متعلق تعارفی لٹریچرکی تیاری۔
(ل) اردو،عربی ودیگرکلاسیکل زبانوںکوفروغ دینا۔
(م) ایک عمدہ لائبریری کاقیام۔

(۲)علماء وصوفیاء کرام کی کتابیں،ملفوظات اورحالات زندگی:
علماء وصوفیاء کرام کے ملفوظات واقوال سے اخلاقی خرابیوں کی اصلاح ہوتی ہے اورسماج میں پھیلی برائیوں پرروک لگتی ہے،ان کی باتیں دل سے نکلی ہوئی ہوتی ہیں جواثرکرجاتی ہے،اس لیے علماء وصوفیاء کرام کے ملفوظات زندگی کے تمام گوشوں سے متعلق ملتے ہیں۔ملفوظات کے علاوہ مکتوبات کی بھی ویسے ہی اہمیت ہے،اکثرعلماء وصوفیاء کرام اپنے مریدوں کے خط کاجواب اس طرح دیتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی اصلاح ہوتی ہیں بلکہ سماج کے دوسرے لوگوں کی بھی اصلاح ہوتی ہے،علمی اورادبی اعتبارسے بھی کافی اہم ہیں اورتاریخی لحاظ سے بھی۔ان کی کتابیں غیرمعمولی اہمیت کاحامل ہیں،ان کتابوں سے علوم ظاہری وباطنی کاسبق ملتاہے۔ان کی کتابیں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہیں۔

کام کی نوعیت:
(الف) علماء وصوفیاء کرام کی تصنیفات وتالیفات کی تحقیق وترتیب۔
(ب) ملفوظات ومکتوبات کی علمی وادبی اہمیت،کتابوں کی فہرست اوران کاجائزہ۔
(ج) علماء وصوفیاء کرام کی سیرت وسوانح سے متعلق کتابوں کی فہرست اوران کاجائزہ۔

(۳)قائم کردہ علمی ادارے:
(الف) ہندوستان میں علماء وصوفیاء کرام کے قائم کردہ علمی اداروں کی فہرست،ان کی نوعیت، اہمیت،ضرورت۔
(ب) ان امورپرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

(۴)ہندوستانی علماء کی فقہی کتابوں کی تحقیق:
(الف) ہندوستانی فقہاء کی فقہی کتابوں کی تحقیق وایڈٹ۔
(ب) فتاویٰ کی ترتیب،تحقیق،تعلیق۔
(ج) ان پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

علماء وصوفیاء کرام کے شعروادب:
شعروادب کاتعلق انسانی تہذیب وتمدن سے گہرارہاہے،اس سے نہ صرف انسان کوخوشی ملتی ہے بلکہ اشعارکے ذریعہ علم وحکمت کومختصرلفظوں میں منتقل بھی کیاجاتاہے اوراس سے انسانی تہذیب وتمدن کے اتارچڑھاؤکی تاریخ بھی سمجھ میں آتی ہے،اس لیے اکثرعلماء ومشایخ اورصوفیاء کرام کے یہاںشعرو شاعری کااچھاحصہ نظرآتاہے اوران کے اشعارانسانی نفسیات،تہذیب وتمدن اورروحانی کمالات کاآئینہ دارہوتے ہیں۔

کام کی نوعیت:
(۱)عالمانہ شاعری:
(الف) عالمانہ شاعری کے مضامین۔
(ب) علماء وصوفیاء کے اشعار،دوحوں میں انسانی میل جول،بھائی چارگی،اخلاقی تعلیم وتربیت۔
(ج) ہندوستان کی مختلف زبانوں میں موجودان کے اشعارتہذیب وثقافت کے اہم ماخذ۔
(د) عالمانہ وصوفیانہ شاعری پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

(۲)صوفی ادب:
(الف) صوفیوں کے یہاںادب کاتصور۔
(ب) صوفیوں کی ادبی کتابوں کاعلمی،ادبی اورتاریخی جائزہ۔
(ج) صوفیانہ ادب پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

علماء وصوفیاء کے اخلاق واحوال اوران کے دربار:
اخلاق حسنہ کاہرمذہب میں نمایاں مقام رہاہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کادارومدارتکمیل اخلاق پررکھاہے،علماء وصوفیاء کرام کے حالات زندگی اورتصوف کی تاریخ سے واضح ہوتاہے کہ اسلامی تصوف،نفوس انسانی کومادی نجاستوں سے پاک وصاف کرنے اوراعلی انسانی اخلاق وکردار پیداکرنے کی عظیم الشان تحریک تھی،انہوں نے خداشناسی کے ساتھ انسان کے اخلاق واطواراورفکروعمل کودرست کرنے کی کوششیں کیں،علماء وصوفیاء کرام کے یہاں اعلی اخلاق کی تعلیم کی جوروایتیں ملتی ہیں ان سے اندازہ ہوتاہے کہ تصوف تعلیم اخلاق کانام ہے،ہندوستانی علماء وصوفیاء کرام نے اپنی ساری زندگی اس کام لیے وقف کردی تھی۔

کام کی نوعیت:
(۱)اخلاق واحوال:
(الف) علماء وصوفیاء کے اخلاق وخصائل پرموجودکتابوں کی فہرست اوران کی تحقیق۔
(ب) آداب مریدین۔
(ج) صوفیوں کے یہاں آداب واحوال کی حقیقت اورشخصیت سازی میں اس کارول۔
(د) صوفیوں کے آداب واحوال پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(۲)صوفیوں اورعالموں کے دربار:
(الف) صوفیانہ دربارکی نوعیت۔
(ب) صوفیوں کے دربارمیں امیروں اوربادشاہوں کی حاضری۔
(ج) صوفیوں کے درباراحترام انسانیت کے اہم مراکز۔
(د) صوفیوں کے دربارسے متعلق کتابوں کی ترتیب وتحقیق۔
(ہ) سیمینار،ورک شاپ،لکچرز،کانفرنس۔

حقوق انسانی علماء وصوفیاء کے یہاں:
صوفی روحانی ترقی کے لیے انسانوں کے ساتھ ہمدردی،انصاف،حقوق کی ادائیگی نمایاں اوربنیادی حیثیت رکھتی ہیں،اس لیے علماء ومشایخ اورصوفیاء کرام کے یہاں بول چال،نششت وبرخاست ،کھانے پینے میں بھی مساوات وبرابری پائی جاتی ہے۔

کام کی نوعیت:
(۱)حقوق انسانی:
(الف) عالموںاورصوفیوں کے یہاں حقوق انسانی کاتصور۔
(ب) حقوق انسانی پرموجودکتابوں کی تحقیق وترتیب۔
(ج) ان امورپرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

(۲)صوفیانہ طریقوں سے بیماروں کاعلاج:
بیماروں سے ہمدردی اوران کی تیمارداری جس سے ان کی تکلیف کم ہواوردل کی رنجش ختم ہو،خداتک پہنچنے کاذریعہ سمجھاجاتاہے۔صوفیاء کرام کے یہاں مریضوں کے علاج ،خدمت اوراس سلسلہ میں ان کے ذریعہ طبابت کے ذریعہ خدمت بھی ملتی ہے۔

کام کی نوعیت:
(الف) صوفیوں کے یہاں مریض کے علاج کاطریقہ کار۔
(ب) مریضوں کی خدمت صوفیاء کرام کی نظرمیں۔

(۳)عالموں اورصوفیوں کے یہاں فقروفاقہ اورفقراء کی خدمت کاتصور:
تمام انسان ایک خداکے پیداکئے ہوئے اورایک ماں باپ کی اولادکاتصورکئے جاتے رہے ہیں۔اس لیے علماء وصوفیاء کرام غریبوں اورمحتاجوں کی خدمت میں خداکوپانے کاتصوررکھتے ہیں۔ان کے یہاں فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی اوران کے کھلانے پلانے کے لیے لنگرکاانتظام ہوتارہتاہے،فقیرکے دل کی خوشی سے وہ اپنی روحانی ترقی خیال کرتے ہیں۔

کام کی نوعیت:
(الف) عالموںاورصوفیوں کے یہاں فقروفاقہ اورفقراء کی خدمت، اہمیت وضرورت اورطریقہ کار۔
(ب) ان پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

(۴)عالموں اورصوفیوں کے یہاں خواتین کی حیثیت:
خواتین سماج کاایک اہم حصہ ہیں،ان کی عزت وتکریم کی جاتی ہیں،چاہے وہ بیٹی کی حیثیت میں ہو،یابہن کے اعتبارسے،یاماںکی حیثیت سے،یازندگی کی رفیق بن کربیوی کی شکل میں، انہیں معاشرہ میں عزت واحترام کامقام حاصل ہے اوران کے ساتھ کوئی ایساسلوک نہ ہوجس سے ان کی تحقیرہوتی ہویاان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہو،علماء وصوفیاء کرام کے یہاں خواتین کے ساتھ بہترسلوک کرنے کی تلقین اوران کے ساتھ ہمدردی کابرتاؤکی تاکیدبرابرملتی ہے چاہے ان کے مریدین کے ذریعہ ہویاخانقاہوں میں انفرادی طورپر۔اس بارے میں ان کے یہاں بہت سی اچھی چیزیںملتی ہیں۔

کام کی نوعیت:
(الف) خواتین کی تعلیم۔
(ب) خواتین کے حقوق کی پاسداری۔
(ج) شادی بیاہ،رہبانیت کاتصور۔
(د) مسلم صوفیوں کے علاوہ دیگرمذاہب،جیسے ہندومت،جین مت،بدھ مت،سنتوں کے یہاں خواتین کی تعلیم،ان کے حقوق اورشادی بیاہ کی روایت پرتقابلی مطالعہ،اس موضوع پرموجودکتابوںکی تحقیق وترتیب۔
(ہ) ان پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

علماء وصوفیاء کے یہاں ہندوستانی تہذیب وثقافت:
ہندوستانی معاشرہ پریہاں کے علماء اورصوفیوں کابھی اثررہاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جگہ جگہ صوفیوں کی خانقاہیں قائم تھیں اورہیں،ان خانقاہوں سے متصل مدرسے بھی رہے ہیں جہاں سے علم اورتہذیب نہ صرف سکھایاجاتاتھابلکہ عملی طورپرآنے والوںمیں ان کوان کے دل ودماغ میں بسایابھی جاتاتھا،لوگ آج بھی صدیوں سے عقیدت وارادت کے ساتھ مدارس ، خانقاہوں اورمزارات پرحاضرہوتے ہیں اوریہ سب تہذیب وتمدن کاایک حصہ بن گئے ہیں۔

کام کی نوعیت:
(الف) علماء وصوفیاء کے یہاں ہندوستانی تہذیب کامعیاراورتہذیبی ارتقامیں ان کاحصہ۔
(ب) ہندوستانی تہذیب وثقافت پرعلماء وصوفیاء کرام کی تحریروتقریرکی تحقیق وترتیب۔
(ج) ان امورپرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(د) اسلامی تہذیب وثقافت کامطالعہ اوراس پر،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔

بین المذاہب تعلقات وڈائیلاگ:
جس طرح دنیاکے باغ وپھلواری طرح طرح کے پیڑوںاورطرح طرح کے پھولوں سے سے پررونق ہیں،اسی طرح تمام انسان بھی مذہب ومشرب اورپیشہ وطبقہ کے باوجودایک ایک گلشن کے مختلف رنگ کے پھول ہیں اوروہ سب ایک ہی ذات کی پیداکردہ ہیں۔اس لئے علماء وصوفیاء کرام نے نفس انسانیت کواجاگرکرنے میں کوئی کمی نہیں کی،وہ دلوں کوجوڑتے رہے اورایک دوسرے کے یہاں مذہبی رواداری کی وجہ سے آتے جاتے رہے اورہندومسلم ان کے درباروںمیں حاضرہوتے رہے۔

کام کی نوعیت:
(الف) بین المذاہب عالمانہ اورصوفیانہ ڈائیلاگ کی اہمیت۔
(ب) مختلف مذاہب کے علماء اورصوفی سنتوں کے آپسی رشتے اورتعلقات،ایک جائزہ۔
(ج) بین المذاہب عالمانہ اورصوفیانہ ڈائیلاگ وتعلقات پرمشتمل کتابوں کی تحقیق وترتیب۔
(ہ) بین المذاہب عالمانہ اورصوفیانہ تعلقات پرسیمینار،ورک شاپ،لکچر،کانفرنس۔
(و) قومی اوربین الاقوامی بین المذاہب موضوعات پرتبادلہ خیال اورتجزیئے کے لیے امکانات مہیاکرانا۔


ممبران:
اغراض ومقاصد
کتب ورسائل

قرآن
حدیث
اسلامیات
سیرت رسولؐ
عقیدہ
فقہ
تصوف
تقریر

سوال/جواب

تمباکو کھانے کے بعد وضو:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
تمباکونوشی اورنسوارکشی سے وضوٹوٹتاہے یانہیں:
شراب پینے کے بعدنشہ آجائے تووضوٹوٹ جاتاہے:
وضوء کے فرائض وسنن
وضو میں واجبات
چہرہ کی حد کہاں سے کہاں تک ہے اور داڑھی کے غسل کاحکم
گنجے سروالے آدمی کے چہرے کی حدود کاحکم
پیشانی کے اوپرکے حصہ میں بال نہ ہوں تووضومیں چہرہ کہاں تک دھوناچاہیے
عورت کے ناک،کان میں سوراخ ہوتووضومیں پانی پہنچاناضروری ہے یانہیں

         آگے پڑھئے